لب بندی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - کچھ کہنے یا لکھنے پر پابندی، زباں بندی۔ "غنچے کی لب بندی اور خاموشی اس کے حسن کا احساس عطا کرتی ہے۔" ( ١٩٨٧ء، مرزا غالب اور مغل جمالیات، ٥٠ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'لب' کے ساتھ فارسی صفت 'بندی' لگانے سے مرکب 'لب بندی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩١٣ء کو "شکریۂ یورپ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کچھ کہنے یا لکھنے پر پابندی، زباں بندی۔ "غنچے کی لب بندی اور خاموشی اس کے حسن کا احساس عطا کرتی ہے۔" ( ١٩٨٧ء، مرزا غالب اور مغل جمالیات، ٥٠ )
جنس: مؤنث